تحریر:سید عنبر عباس رضوی
حوزہ نیوز ایجنسی|
بسم الله الرحمٰن الرحیم
ارشاد باری تعالیٰ ہو رہا ہے: وَجَعَلۡنَٰهُمۡ أَئِمَّةࣰ يَهۡدُونَ بِأَمۡرِنَا وَأَوۡحَيۡنَآ إِلَيۡهِمۡ فِعۡلَ ٱلۡخَيۡرَٰتِ اور ہم نے انکو ایسا پیشوا بنایا جو ہمارے حکم سے لوگوں کی رہنمائی کرتے ہیں ۔ اس آیت نے بنی آدم کو ایک ضابطہ دے دیا کہ اس کائنات میں ہر زمانے میں اللہ کی جانب سے عمل خیر کی نشاندہی ان ذوات مقدسہ کے ذریعے ہوتی ہے جو خالق و مخلوق کے درمیان رابطہ کا سبب بنتی ہیں اور وہ ذوات طاہرہ اسلام اور اس کی روح کی سلامتی کا سبب ہیں۔ لہٰذا انبیاء و آئمہ معصومین علیہم السلام کی ذوات مبارکہ سے صادر ہونے والے اعمال کا ہدف اللہ کے دین کو محفوظ رکھنا ہے۔ چنانچہ اسلام اور اس کی روح اگر بذریعہ جنگ بچ رہی ہو تو وظیفہ میدان جنگ میں ثابت قدم رہنا ہے، اور اگر روح اسلام صلح کے قالب میں محفوظ ہو رہی ہو تو صلح کرنا فریضہ ہے۔لہٰذا ذکر ہوے ضابطہ کے تحت انبیاء الٰہی اور آئمۂ معصومین علیہم السلام ہر زمانے میں اللہ کے دین کی حفاظت کے لیے جو کچھ انجام دیتے ہیں، وہ فعل بذریعہ ہدایت پروردگار انجام پاتا ہے ۔ لہذا جس امام نے اپنے زمانے کے حالات و شرائط کے مطابق جو قدم اٹھایا، وہی امر مطلوب الٰہی اور فریضہ کی کماحقہ ادائیگی تھا۔
پیغمبر ختمی مرتبت ص کی جنگ اور صلح
جناب ختمی مرتبت کی دس سالہ مدنی زندگی میں کم و بیش 80 اسی جنگوں کا ذکر ملتا ہے، اور انہی جنگی فتوحات کے درمیان فتح مکہ کی بے خون چکاں کامیابی کا تذکرہ بھی شہرہ آفاق ہے، جو درحقیقت صلح حدیبیہ کا نتیجہ تھی۔ جس کے محیرالعقول شروط و شرائط جہاں اسلام کے اقدار و اخلاق کا لوہا منوا رہے تھے، وہیں دوسری طرف فتح مکہ کے موقع پر طاقت، لشکر اور قدرت کے باوجود اسلام نے رحم و محبت کی باہوں کو پھیلا کر، باہمی تلخیوں کو بھلا کر، دیرینہ رنجشوں کو مٹا کر، اسلام اور پیغمبر اسلام کے کردار کی ندرت، محبت اور درندہ صفت خون کے پیاسے بدو عرب کو انس و محبت کے ذریعے انسان بنانے کی چاہت کی طرف بخوبی اشارہ کیا ہے۔
پیغمبر کی حکمت عملی تا قیام قیامت آنے والے سلاطین و سیاست دانوں کے لیے نمونۂ عمل ہے، جس میں حد درجہ اعتدال دیکھنے کو ملتا ہے، چاہے میدان جنگ ہو یا معرکۂ صلح، غزوہ ہو یا سریہ؛ سب کا اپنا الگ امتیاز ہے۔ جہاں جنگ بدر کی انگشت شمار عسکری طاقت سے لیکر خیبر کی دندان شکن معرکہ الآراء جنگ اپنی مثال آپ ہیں، وہیں صلح حدیبیہ کے موقعے پر دشمن سے اپنی بالادستی کا اقرار کروانے کے بعد بھی ایسی شرط و شروط پر صلح نامہ تحریر کرنا نہ صرف آپ کی دوربینی اور سوجھ بوجھ پر واضح دلیل ہے بلکہ آپ کے عظیم ترین اور بے بدیل معلم کتاب و حکمت ہونے پر بھی روشن ثبوت ہے۔ یعنی آپ کا اپنے اصحاب اور شاگردوں کے بارے میں اپنی معلمی پر یہ اعتماد، درحقیقت آپ کے حقیقی اصحاب کی مستقل مزاجی اور ان کے ایمان کی صلابت کی ضمانت تھا۔ یہ کہ “ان هذا القرآن يہدي للتي هي أقوم” قران ناطق، پیغمبر مکرم کی ہدایت میں اس قدر قوام و دوام تھا کہ آپ جانتے تھے کہ آپ کے اصحاب، چاہے سونے کی کان ان کے سامنے ہو یا شکنجے کا جال، کسی صورت نہ بکنے والے ہیں اور نہ ظلم و استبداد کی آنچ میں پگھلنے والے ہیں؛ وہ جہاں بھی رہیں گے، ہمارے ہی رہیں گے۔ اسی لیے آپ نے فرمایا: ہم تمہارے والوں کو واپس کر دیا کریں گے، تم ہمارے والوں کو اگر چاہو تو واپس نہ کرنا۔
اور پھر دوسرا موقع جب فتح مکہ کا دن آیا؛ جس دن کو اندھا دھند قتل و غارت گری اور انتقام کا دن ہونا چاہیے تھا، آپ نے اس روز کے بارے میں “الیوم یوم الملحمہ” کے بجائے “الیوم یوم المرحمہ” قرار دیا، اور پھر ابو سفیان جیسے کینہ پرور دیرینہ دشمن کے گھر کو اپنے مخالفین کے لیے پناھگاہ کا درجہ دے دیا۔ پھر ان تمام حکمت و سیاست کے نفع بخش اور خوش آیند نتائج کیا خوب ظاہر ہوئے کہ تاریخ بشریت نے اس سے پہلے اتنے بڑے دل اور اتنا پختہ کردار کے انسان کو نہیں دیکھا تھا۔
تاریخ کی نگاہوں نے اس عظیم کردار کو بطور قانون پیش کر دیا کہ فتح مکہ سے لیکر صفین کی گھاٹ اور نینوا کے لب فرات تک حق و باطل کے درمیان اگر کچھ حد فاصل ہے تو وہ صرف محمدی کردار ہے۔ جو محمد مصطفی صلی۔۔ کے حقیقی نمائندہ ہوں گے، وہ محمد مصطفی کے افکار و کردار کا آئینہ ہوں گے۔ لہٰذا رسول اسلام اور آپ کے اوصیاء برحق، بالخصوص سبط اکبر ع اور سبط اصغر ع کی حیات دراصل آپ کی حیات کا آئینہ ہے ان کی جنگ، آپ کی جنگ کا آئینہ، ان کی صلح، آپ کی صلح کا آئینہ ہے۔ یا یوں کہا جائے کہ اسلام کے اس جنگ و صلح کے نظام نے بشر کے کل پر دلیل بن کر اس کے سرد و گرم مزاج کے امتزاج کی کیا خوبصورت حقیقت پیش کی ہے کہ جہاں دشمن سے نبردآزما ہونا لازم ہو وہاں باپ کی جلالت کو بروئے کار لانا ضروری ہے، اور جہاں دشمن سر تسلیم خم کر دے وہاں ماں کی مامتا کی کارفرمائی سے عفو و گذرلازم ہے۔
امام حسن مجتبی علیہ السلام کی جنگ یا صلح؟
جیسا کہ ابتداء میں ذکر ہو چکا ہے کہ امام معصوم کا عمل اپنے زمانے کے تقاضوں اور شرائط کے تابع ہوتا ہے، جو سراسر حکمت کی دلیل ہے، اور امام کے وجود سے صادر ہونے والے ہر عمل کا نتیجہ روشن مستقبل کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ نہ صرف امام بلکہ ایک عام عالم و حکیم انسان کےعمل میں بھی بصیرت و حکمت کا دخل ہوتا ہے، اور یہ محاورہ "فعل الحکیم لا یخلو عن الحکمہ" اسی حقیقت کی طرف کیا خوب اشارہ کرتا نظر آرہا ہے، لہذا بصیرت کی سادہ تعریف یہ ہو سکتی ہیکہ کسی کام کے اثر کے حوالے سے مستقبل پر نگاہ کا ہونا، یعنی اس کام کے اثر کو مستقبل قریب و بعید پر اثرانداز ہونے کے بارے میں گمان و یقین کا حاصل ہونا، یہ خاصیت کسی کام کو انجام دینے کے وقت ایک با بصیرت انسان کی ہوتی ہے بس اس فرق کے ساتھ کہ ہمارے کام اور انکے اثرات چند سالوں پر اثر انداز ہوتے ہیں، جبکہ انبیاء الٰہی اور آئمہ معصومین کے ذریعے انجام پانے والے امور کا اثر چند سال پر نہیں بلکہ صدیوں پر یا تاقیام قیامت محیط ہوتا ہے۔ جس کی بولتی مثال صلح حدیبیہ، فتح مکہ، صدیقۂ طاہرہ کا امیر المومنین کے حق کے دفاع کے لیے مسلمانوں کو دعوت دینا، اور جب کسی کے کان پر جوں نہ رینگی تو ان کا امت کو آئندہ کے پرآشوب حوادث سے باخبر کرنا، یا صلح امام حسن اور جنگ کربلا کے فیصلہ کن اثرات کا ظاہر ہونا ہے۔ بعض افراد اس منزل پر بے احتیاطی سے کام لیتے ہیں اورصلح امام حسن کا تقابل جنگ کربلا سے کرتے ہوئے آپ کی صلح کو کم رنگ تصور کرتے ہیں، مگر انہیں شاید اس بات کا احساس نہیں ہوتا کہ امام حسن کے زمانہ امامت میں نہ صرف شیعیان علی کی جڑیں کو مضبوط ہوئیں بلکہ انہیں تحفظ بھی بخشا ہے، ساتھ اسکے کہ سرکار سید الشہداء ع نے بھی اپنی مدت امامت کے دس برس معاویہ کے دور میں پورے کیے ہیں۔
امام حسن نے یہ صلح خواستہ طور پر معاویہ کے ساتھ نہیں کی بلکہ یہ صلح جن حالات میں واقع ہوئی ہے ،امام حسن کی جگہ اگر کوئی اور ہوتا تو ایسا چت ہوتا کہ کبھی اٹھ نہ پاتا، کیونکہ معاویہ کے درہم و دینار کی جھنکار نے نہ صرف لوگوں کے کان بہرے کر دیے تھے بلکہ اس کی رنگ بازیاں ایسا بھور طیار کر چکی تھیں جس سے نکلنے کی کوئی صورت باقی نہ تھی۔ اب ہم بالاختصار ان سیاسی حالات اور امام حسن کی زیرکانہ قیادت پر روشنی ڈالتے ہیں۔
امام حسن کی وہ شجاعت جو ہمیں صفین کے میدان میں نظر آتی ہے، آپ کی اصل شجاعت کا ایک نمونہ ہے۔ وہ دور جہاں امیر المومنین کے ہمراہ مالک جندب عمار جیسے تمام صف اول کے مخلص اصحاب رسول اور فنون جنگ میں لوہا منوانے والے افراد کا تھا؛ لیکن حضرت امیر المومنین ع کی شہادت کے بعد نہ صرف معاویہ کی سرکشی میں غیر معمولی اضافہ ہوا بلکہ اس کی ہیبت لوگوں کے دل و دماغ پر طاری تھی۔ ایسے دور میں اس کے فسق و فجور کے خلاف آواز کا اٹھانا ، اس کی نااہلیوں کو برملا کرکے اسکو کیفرکردار تک پہنچانے کے لئے نخیلہ میں فوجی پڑاؤ کا ڈالنا یہ اسلام کی غیر معمولی قیادت کی داستان ہے،قارئین اس مقام پر محسوس کریں کہ درجہ بدرجہ امر بالمعروف کے تمام مراتب کے ذریعہ اپنی حجت کو تمام کرنے کے بعد جب معاویہ کی بڑھتی سرکشی پر لگام لگانے کی کوئی صورت باقی نہ بچی تو چارہ کار سواے اس کے ساتھ جنگ کرنے کے کچھ اور نہ تھا ورنہ فوجی پڑاؤ اور جنگی مشقوں کی کیا ہی ضرورت تھی؟ لیکن یہ جنگ مسلمانوں کی بزدلی اور سپہ سالاروں کی خیانت کے نذر ہوگئ ، اس مقام پر سبط اکبر امام حسن ع کی بےنظیر قیادت اور بینش سیاست کو بخوبی سمجھنے کے لئےایک پہلو نظر آتا ہے اور وہ یہ کہ کسی جنگ کے منصوبے کا اپنوں کی خیانت سے ناکام ہونا کسی بعد کی صلح کا پیش خیمہ نہیں ہوتا ہے ، بلکہ اس قائد کو لقمہ اجل اور عبرت کا نشان بنانے کا سب سے مناسب موقع ہوتا ہے۔ مگر یہاں تصویر بالکل الگ ہے آپ کے سپہ سالار معاویہ کے دینار کے عوض بک گئے، آپ پر زہر آلود خنجر سے وار ہوا، آپ کے خلاف آپ کے لشکر میں بغاوت کی ہلچل دھیرے دھیرے تیز ہوتی رہی۔ اتنا ہی کافی تھا اس بات کے لیے کہ اگر آپ کی جگہ اگر کوئی اور ہوتا تو معاویہ اسکو مصلوب کر کے زندہ نذر آتش کر دیتا؛ مگر یہ آپ کی سیاست، شجاعت اور آپ کے اعلیٰ ہاشمی خاندان کی ہنک تھی کہ معاویہ وہ نہ کر سکا جو قاعدتا جابر حکمران اپنے خلاف ہونے والی معرکہ آرائیوں اور شورشوں کو کچلنے کے لیے کرتے ہیں ، بلکہ اس نے آپ کو فوقیت دیتے ہوئے آپکے سامنے سفید صلح نامہ پیش کر دیا۔
اب زمانہ خود فیصلہ کرے کہ یہ سارے شواہد معاذ اللہ آپ کی بزدلی پر دلیل ہیں یا ببانگ دہل اپکی شجاعت و سیاست کی گواہی دے رہے ہیں،امام نے ڈنکے کی چوٹ پر معاویہ سے وہ سب قبول کروا لیا جو مسائل اس کی اموی حکومت کے اساسی اصول کے خلاف تھے:
1 حسن ؑ ابن علی حکومت ،معاویہ کے حوالہ کر رہے ہیں اس شرط کے ساتھ کہ معاویہ قرآن و سنت پیغمبر ؐ پر عمل کرے گا۔
2 معاویہ کے بعد حکومت دوبارہ حسن ؑ ابن علی ؑ کے پاس آجائے گی اور اگر اس مدت میں ان کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آجائے تو حسین ؑ ابن علیؑ مسلمانوں کے حاکم ہوں گے اور معاویہ کو اپنا جانشین معین کرنے کا حق نہ ہوگا ۔
3 مولائےکائنات حضرت علی ؑ ابن ابی طالب ؑ پرسب و شتم بندکیاجائےاوران کاتذکرہ خیرکےساتھ ہی کیاجائے ۔کوفہ کار بیت المال جس میں پچاس لاکھ درہم ہیں معاویہ کے حوالہ نہیں کیا جائے گا اس کو خرچ کرنے کا حق اما م حسن ؑ کو ہوگا ۔
4 حکومت کی طرف سے وظائف میں بنی ہاشم کو بنی امیہ پر مقدم کیاجائےگا ۔
اس کے علاوہ ایک ملین خراج جمل و صفین کی لڑائیوں میں مولائے کائنات ؑ کے ساتھ شہید ہونے والے افراد کے اہل خاندان کو دیا جائے گا ۔
5 معایہ کو یہ عہد کرنا ہوگا کہ کہ شام ، عراق اور حجاز کے تمام افراد چاہے جس قبیلہ سے متعلق ہوں ،معاویہ کی طرف سے ہر قسم کے آزار و اذیت سے محفوظ رہیں گے اور بنی امیہ کی حکومت کے خلاف ان کی کارکردگی پر سزا نہ دی جائے گی خاص طور پر اہل عراق کو معاویہ اپنے گذشتہ بغض و عناد کا نشانہ نہ بنائے ۔
6 اس کے علاوہ مولائے کائنات ؑ کے تمام اصحاب و انصار جہاں بھی ہوں امان میں رہیں گے اور ان میں سے کسی کو بھی اذیت نہ دی جائے گی۔ ان کے لئے چھوٹی سے چھوٹی مشکل بھی نہ کھڑی ہونے دی جائے گی ۔ ہر شخص کو اس کا حق دیا جائےگا اور شیعوں کے پاس جو بیت المال ہے اس کو ان سے واپس نہیں لیا جائے گا۔ امام حسن ؑ ،امام حسین ؑ اور خاندان رسالت ؐ کے دوسرے افراد کے لئے کوئی خطرہ نہ پیدا کیا جائے ۔ اورکسی طرح ان کو خوفزدہ نہ کیا جائے ۔آخر میں معاویہ نے عہد کیا کہ ان تمام باتوں پر عمل کرے گا اور اس نے اس بات پر خدا کو گواہ بنایا جس کے اوپر شام کے تمام بزرگ افراد نے گواہی دی۔
بغور مطالعہ معلوم ہوتا ہیکہ جن چیزوں کے دفاع کے لیے وہ میدان میں کودا، لوگوں کو منہ بولی قیمت میں خریدا، امام نے انہی چیزوں کو اس کے بھیجے ہوئے صلح نامہ پر لکھ کر اسے شکست سے دوچارکردیا، جس کی پابندی معاویہ کو کرنی تھی کیونکہ اس نے خود بنفس و نفیس صلح کی پیشکش کی تھی۔ یعنی اب اس کے گلے میں ایسی ہڈی تھی جسے نہ اگلتے بنے نہ نگلتے بنے،اگر وہ اس عہد نامہ کو قبول کرتا ہے تو اس کے بعد اموی حکومت کا دور تمام ہو جائے گا اور خلافت پیغمبر، جو سقیفہ میں ہتھیائی گئی تھی، بحسن و خوبی اپنے حقیقی وارثین کے پاس لوٹ آئے گی۔ (یہ بات بظاہر جتنی معمولی دکھائی دیتی ہے، سیاسی میدان میں غیر معمولی کامیابی ہے) اور اگر وہ خود اپنے دیے ہوئے اقرار نامے کی مخالفت کرتا ہے، (جیسا کہ اس نے کیا ) تو پورا عالم اسلام اس بات کو سمجھ لیگا کہ معاویہ بے دین اور عہد شکن ہے،(يعنی بے نقابی جبکہ ایسا ہی ہوا) اور اس کے بعد اس کا بیٹا یزید خود اپنے باپ کے دستخط کیے صلح نامہ کے مطابق خلافت کا حقدار نہیں ہے، جسے اس نے حسن ابن علی سے لکھوایا تھا اور خود کو بغیر کسی قید و بند کے ان تمام شرائط کا پابند قرار دیا تھا۔
کسی بڑے مقصد کی کامیابی کے لیے صرف امام یا قائد کا ہونا ضروری نہیں ہوتا ہے بلکہ عوام کا اسکے ہم آواز ہونا بھی ضروری ہوتا ہے ورنہ عوام کی بےدلی اور بزدلی کی وجہ سے امام اس سنگین وزن کو اٹھانے سے دستبردار ہوجاتا ہے جسکو اٹھانے کی اہلیت اسمیں پائی جاتی ہے مگر ساتھ چلنے والوں میں تحمل کی سکت و صلاحیت نہیں ہوتی ہے ،امام ہر حال میں اپنی عوام کے ساتھ ہوتا ہے بنی اسرائیل کی چالیس سال کی دربدری میں جناب موسی ع کہاں تھے؟ اپنی عوام کے ساتھ تھے، جبکہ انہوں نے اپنی قیادت اور فرائض کی ادائیگی میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی، رسالت مآب ص سے لیکر تمام اماموں ع کے ساتھ اور شاید امام زمانہ عج کے ظہور کی تاخیر کی وجہ بھی یہی امر ہے کہ امام موجود ہے ہم کہاں ہیں ؟ حقیقی منتظر کون وہ یا ہم ؟
اخر کلام میں عرض کرتا چلوں کہ امام حسن ع نے اپنی اس تاریخی صلح کے ذریعے کربلا کا باب کھول دیا اور قیام سید الشہداء ع کو جواز و اعتبار فراہم کر دیا، کیونکہ امام حسن ع کو بخوبی معاویہ کی خیانتوں کا اندازہ تھا اور امام حسین ع کی کربلا اپنے تمام شرائط کے مطابق معاویہ کو بے نقاب کرنے والی اسی صلح حسن کا تابناک ضمیمہ بن کر ابھری اور بندروں سے کھیلنے والے لعنتی یزید اور عیاش حکمرانوں کے پنجوں سے اسلام کو آزاد کر دیا۔ اگرچہ بظاہر ایسے سلاطین کا سلسلہ ایک کے بعد ایک جاری رہا، مگر امام حسین عالی مقام نے کربلا میں واقعی اسلام کو تمام جوانب سمیت پیش کر کے قیامت تک کے لیے اسلام ناب محمدی کو زندہ کر دیا ہے ۔اگرچہ61 ہجری سے لیکر آج تک اس کی پیروی کرنے والے اقلیت در اقلیت میں ہیں، مگر جھوٹے سقیفائی اسلام کے مقابل حقیقی دین زندہ ہے، اور امام حسن اور حسین علیہما السّلام نے اپنی صلح اور جنگ کی بدولت نسلوں کو حق سے ہم کنار کر دیاہے ، اور قیامت تک انے والی نسلوں کے لیے اللہ کا حقیقی دین موجود ہے اور اس کے نقوش اظہر من الشمس نمایاں ہیں۔









آپ کا تبصرہ